نامہ نگار، مصنف، مشرق وسطی اور روس کے امور کے ماہر ایرک والبرگ کہتے ہیں: "غلام پروری" (Slavery)، نسل کشی اور جنگ کی بنیاد پر قائم ہؤا ہے جس سے، اس سے بہتر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ مغرب میں ـ دنیاوی بقاء کی پاسداری کے لئے ـ بہت دانشوروں اور مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں۔

28 جنوری 2026 - 22:46

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بہرحال امریکہ کی خانہ جنگی ـ جو ایک طویل اور فرسودہ کرنے والی جنگ تھی ـ اختتام پذیر ہوئی، اور جنوب کو شکست ہوئی، غربت اور دیوالیہ پن سے دوچار ہؤا اور نتیجے کے طور پر تھیلا بردار (Carpetbaggers) اس اصطلاح کا اطلاق ان اس اصطلاح نے یہاں سے جنم لیا کہ تھیلا بردار ہاکرز (یا پھیری کرنے والے Hawkers) تھے جو کسی قید و بند کے بغیر اپنی لائی ہوئی اشیاء فروخت کرتے تھے، تجارت کرتے تھے اور جنوب پر مسلط ہو جاتے تھے۔ اور چونکہ جنوب غریب تھا، چنانچہ وہ تقریبا اپنی ہے شیئے کی ملکیت سے بھی محروم ہوگئے۔ انھوں نے اپنی زمینیں اور مصنوعات وغیرہ ان ہی تھیلا برداروں کے ہاتھوں ہار دیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تھیلا بردار شمالیوں میں سے بہت سارے افراد یہودی تھے اور یہودیوں نے امریکہ میں اسی راستے سے سرمایہ اکٹھا کیا۔ جو بھی امریکہ آتا ہے یہیں سے شروع کرتا ہے؛ مسلمان بھی اسی طرح ہیں! جب آپ یہاں آتے ہیں تو جو کچھ آپ کے پاس ہے بیچ ڈالو اور پس انداز کرو!، جس کے بعد آپ ایک صنعت کے مالک بن سکتے ہیں یا وسیع پیمانے پر تجارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

آج، ہم اسی قسم کے خورجین بدوشوں کو یوکرین میں دیکھ رہے ہیں۔ اب جبکہ یوکرین تباہ و برباد ہو چکا ہے، مغرب داخل ہو رہا ہے؛ یورپی یونین اور امریکہ کہتے ہیں کہ "ہم یوکرین کے قدرتی وسائل چاہتے ہیں۔" ٹرمپ نے اس بات کو بالکل آشکار کر دیا اور کہا: "ہم ایک معاہدے کے خواہاں ہیں جس میں یوکرین کے تمام تر قدرتی وسائل شامل ہوں"، چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ انیسویں صدی کی امریکی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔

حصۀ دوم | عالمی مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہیں، امریکہ غلام پروری اور نسل کشی پرقائم ہؤا ہے، ایرک والبرگ

چنانچہ یوکرین اور روس کی جنگ سنہ 2014ع‍ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ سنہ 1945ع‍ سے ـ یا نہیں بلکہ سنہ 1941ع‍ سے ـ شروع ہوئی۔ جب ہٹلر نے سوویت اتحاد پر حملہ کیا۔ پس یہ جنگ درحقیقت روس کے خلاف ایک فسطائی جنگ (Fascistic War) جنگ تھی جس نے سنہ 2014ع‍ میں دوبارہ سر اٹھایا، روسی گھبرا گئے۔ سمجھ گئے کہ کیا واقعہ رونما ہونے والا ہے اور اسی بنا پر یوکرین میں داخل ہو گئے، کیونکہ یوکرینی حکومت اپنے مشرقی روسی اکثریتی علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے جنگ شروع کرنے کے لئے تیار تھی۔ یہ وہ علاقے ہیں جن پر روس نے مقامی روسیوں کے تعاون سے قبضہ کیا یا انہیں یوکرین سے آزاد کرایا تھا۔ چنانچہ جو منظرنامہ آج ہم یوکرین دیکھ رہے ہیں، بہت پیچیدہ ہے، لیکن بہرحال یہ منظرنامہ امریکی سامراجیت کے تحت قائم تشکیل پایا ہے۔ یہ، "امریکہ میں خانہ جنگی" کے بارے میں میرے مقالے کے پہلے حصے کا ایک خلاصہ تھا۔

چنانچہ یوکرین کی جنگ کا ایک بہت اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ جنگ فسطائی جنگ ہے۔ سنہ 2014ع‍ ہی امریکہ یوکرین کی جنگ میں داخل ہؤا اور نیٹو میں اور یورپی یونین میں یوکرین کی شمولیت کا وعدہ دے کر، روس کے ساتھ اپنی دشمنی کا آغاز کر دیا۔

ظاہر ہے کہ یوکرینی اور روسی درحقیقت ایک ہی قوم ہیں۔ ان کی آپس میں شادیاں ہوئی ہیں، یوکرینی زبان درحقیقت روسی زبان کی ذیلی زبانوں میں سے ایک ہے؛ گوکہ یوکرینی زبان کا لہجہ ایک الگ لہجہ ہے لیکن وہ روسی زبان سے الگ ایک منفرد زبان نہیں ہے۔ یوکرینی زبان انیسویں صدی سے پہلے موجود ہی نہیں تھی۔ یہ وہی زمانہ تھا کہ تمام یورپی اقوام نے رفتہ رفتہ اپنی اپنی قوم پرستی کو تشکیل دیا۔ فاشزم (Fascism) اور شاونیت (Chauvinism) [جنگحویانہ اور انتہاپسندانہ قوم پرستی] اور پورے یورپ میں انیسویں صدی کی قوم پرستی [Nationalism) کا آغاز ہؤا۔ یہ جارحانہ قوم پرستی کی ایک قسم تھی۔ اور ہاں! دوسری جنگ عظیم میں اسی قوم پرستی کو ہٹلر کے تحت نشوونما ملی۔ یوکرینی بھی غیر معمولی فاشسٹ تھے اور انہوں نے بڑی تعداد میں یہودیوں اور کمیونسٹوں کا قتل عام کیا۔ جب ہٹلر یوکرین پر قابض ہؤا تو یہ ملک آزادانہ لوٹ مار اور زیادتیوں اور تجاوزات کا میدان تھا۔ یوکرینی اس کام میں خود بھی استاد تھے۔ چنانچہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر، امریکیوں نے ان بہت سے جرمن اور یوکرینی فاشسٹوں کو اپنے ملک میں منتقل کیا، کیونکہ انہوں نے اٹل فیصلہ کر لیا تھا کہ ہٹلر کی جنگ کو روسی کمیونزم کے خلاف جاری رکھیں۔

چنانچہ یوکرین اور روس کی جنگ حتیٰ کہ سنہ 2014ع‍ سے بھی آغاز نہیں ہوئی بلکہ یہ سنہ 1945ع‍ یا حتیٰ سنہ 1940ع‍ شروع ہوئی تھی۔ آپ 1941ع‍ کا حوالہ دے سکتے ہیں جب ہٹلر نے سوویت روس پر حملہ کیا۔ چناچہ یہ جنگ روس کے خلاف ایک فسطائی جنگ ہے جو سنہ 1941ع‍ سے شروع ہوئی ہے۔

سنہ 2014ع‍ میں یہ جنگ ایک بار پھر عروج کو پہنچی؛ اور سنہ 2022ع‍ میں روسی گھبرا گئے؛ وہ سمجھ گئے کہ کیا واقعہ رونما ہونے والا ہے اور اسی وجہ سے روس یوکرین میں داخل ہو گیا کیونکہ یوکرینی ایک جنگ کی تیاری کر چکے تھے؛ وہ اپنے مشرق میں روسی علاقوں پر دوبارہ قابض ہونا چاہتے تھے جنہیں یوکرین کے مقامی روسیوں نے روس کی مدد سے "قبضہ" کر لیا تھا یہ "آزاد" کرایا تھا۔ چنانچہ جو منظرنامہ ہم آج یوکرین میں دیکھ رہے ہیں، بہت پیچیدہ ہے، لیکن اس کی بنیاد امریکی استعمار اور امپریلزم کی بنیاد پر رکھی گئی ہے۔

یہ امریکی خانہ جنگی کے بارے میں میرے مقالے کا دوسرا حصہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha